Home Urdu News نوازشریف کے بعد آصف زرداری کا نمبر؟ منی لانڈرنگ کیس میں چیف...

نوازشریف کے بعد آصف زرداری کا نمبر؟ منی لانڈرنگ کیس میں چیف جسٹس نے دھماکہ خیز حکم جاری کردیا

292
0

سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ عبد الغنی مجید اور انور مجید کا چیک اپ اسلام آباد سے ہو گا۔ وکیل منیر بھٹی نے کہاکہ عبد الغنی مجید اور انور مجید کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی قید تنہائی میں نہیں رکھا طگیا بہت کچھ خود

دیکھ کر آیا ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ اپنے موکل تک دلائل محدود رکھیں۔ وکیل منیر بھٹی نے کہا کہ پانامہ کیس میں ملزم عوامی عہدے پر تھے۔ میرے موکلان کی 50 سے زائد کمپنیاں پاکستان میں ہیں۔اومنی گروپ کے اکاؤنٹس کھولنے کا حکم دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ 35 ارب روپے جمع کروادیں اکاؤنٹ کھُلوا دیں گے۔سماعت میں آج انور مجید کے بچوں کے دلائل مکمل ہو گئے۔ وکیل انور مجید نے دلائل دئے کہ ایف آئی اے نے مختلف افراد کے بیانات بھی ریکارڈکیے۔ دوران سماعت بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن نے بھی دلائل دئے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم کورٹ مقدمہ دائر ہونے یا ٹرائل شروع ہونے پر مداخلت نہیں کر سکتی۔ پانامہ کیس میں نیب چئیرمین نے کارروائی سے انکار کیا تھا۔ڈی جی ایف آئی اے کارروائی سے انکار کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے خود معاونت مانگ رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے جس سے بھی چاہے از خود معاونت لے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس میں ایف آئی اے کی تحقیقات کو روک دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی سے از سر نو تحقیقات کروالیتے ہیں۔۔

عدالت سمجھتی ہے کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا ضروری ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے معاملے پر جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کا حکم دے دیا ۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ایس ای سی پی،، اسٹیٹ بنک اور ایف بی آر کے افسر درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب، ایم آئی اور آئی ایس آئی کے افسر بھی درکار ہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کی ضرورت کیوں ہے؟بشیر میمن نے کہا کہ حساس اداوں کے پاس بہترین فرانزک ماہرین ہیں۔کراچی میں ایف آئی اے کو بہت مشکلات ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے ناموں کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ سماعت میں سپریم کورٹ نے ٹرائل اسلام آباد منتقل کرنے کی استدعا بھی مسترد کر دی۔ اور کہا کہ جے آئی ٹی سندھ میں ہی کام کرے گی۔ اور اس جے آئی ٹی کو رینجرز کی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے کے بعد پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔ سپریم کورٹ نے عبد الغنی مجید کی میڈیکل رپورٹ بھی طلب کر لی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here